منگل 3 فروری 2026 - 11:21
رہبری اور مزاحمت سے متعلق سطحی بیانات فکری نادانی کی عکاسی، مولانا سید علی بنیامین نقوی

حوزہ/ مولانا سید علی بنیامین نقوی کا کہنا تھا کہ یہ کہنا کہ فوجی قیادت کو “مروا دیا گیا” دراصل مزاحمت کے فلسفے سے ناواقفیت کا اظہار ہے۔ تاریخِ اسلام میں قربانی کو کبھی قیادت کی ناکامی نہیں سمجھا گیا۔ کربلا میں امام حسینؑ نے اپنے ساتھیوں کو “مروا نہیں دیا” بلکہ حق کی بقا کے لیے شعوری قربانی دی۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اسلام آباد/ شیعہ علماء کونسل اسلام آباد کے رہنما مولانا سید علی بنیامین نقوی نے رہبری اور مزاحمت سے متعلق بعض طعنہ آمیز اور غیر سنجیدہ بیانات پر شدید ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کہنا کہ "انہوں نے بڑھکیں مار مار کر اپنی ساری فوجی قیادت مروا دی اور خود تہہ خانے میں چھپے بیٹھے ہیں"

نہ سیاسی شعور کی علامت ہے، نہ عسکری فہم کی، اور نہ ہی علمی دیانت کا مظہر۔

انہوں نے کہا کہ اس نوعیت کے جملے ایک ایسی سطحی ذہنیت کی عکاسی کرتے ہیں جو قیادت کو محض جسمانی نمائش، بہادری کو جذباتی نعرہ بازی، اور طاقت کو صرف بندوق کی گھن گرج تک محدود سمجھتی ہے، جبکہ قیادت کا حقیقی مفہوم فکری گہرائی، حکمت اور دور اندیشی سے عبارت ہوتا ہے۔

مولانا نقوی کا کہنا تھا کہ یہ بنیادی حقیقت سمجھنا ناگزیر ہے کہ رہبرِ امت یا رہبرِ انقلاب کوئی محاذی سپاہی نہیں بلکہ فکری، تہذیبی اور اسٹریٹجک قیادت کا مرکز ہوتا ہے۔ جو شخص یہ توقع رکھتا ہے کہ کسی ملت یا ریاست کا رہبر بندوق اٹھا کر خندق میں کھڑا ہو، وہ نہ ریاستی نظم کو سمجھتا ہے، نہ جنگ کے اصولوں سے واقف ہے، اور نہ ہی قیادت کے حقیقی کردار کا ادراک رکھتا ہے۔

انہوں نے اس تاثر کو بھی مسترد کیا کہ رہبر میدان سے غائب یا چھپے ہوئے ہیں، اور کہا کہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ رہبر میدان میں موجود ہوتے ہیں، مگر اس میدان میں جہاں فیصلے ہوتے ہیں، سمت متعین کی جاتی ہے، دشمن کی حکمتِ عملی کو ناکام بنایا جاتا ہے، اور پوری مزاحمتی صف کو فکری و اخلاقی توانائی فراہم کی جاتی ہے۔

مولانا نقوی نے کہا کہ رہبر کا اصل میدان فکر، ہدایت اور استقامت کا میدان ہوتا ہے۔ وہ کسی تہہ خانے میں نہیں بلکہ قوم کے شعور، مجاہد کے حوصلے اور دشمن کے خوف میں موجود ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ تاریخ اس امر کی گواہ ہے کہ دنیا کی تمام بڑی جنگیں ہمیشہ محفوظ قیادت، دوراندیش حکمتِ عملی اور مضبوط مراکزِ تدبیر کے ذریعے لڑی گئی ہیں۔ قیادت کا محفوظ رہنا بزدلی نہیں بلکہ قوم کی امانت ہے۔ اگر رہبر محفوظ ہو تو ملت کی سمت محفوظ رہتی ہے، اور اگر قیادت کو دانستہ طور پر خطرے میں ڈالا جائے تو پوری قوم فکری طور پر کمزور ہو جاتی ہے۔

مولانا سید علی بنیامین نقوی کا کہنا تھا کہ یہ کہنا کہ فوجی قیادت کو “مروا دیا گیا” دراصل مزاحمت کے فلسفے سے ناواقفیت کا اظہار ہے۔ تاریخِ اسلام میں قربانی کو کبھی قیادت کی ناکامی نہیں سمجھا گیا۔ کربلا میں امام حسینؑ نے اپنے ساتھیوں کو “مروا نہیں دیا” بلکہ حق کی بقا کے لیے شعوری قربانی دی۔

انہوں نے مزید کہا کہ غلامی کے نظام میں موت کو ذلت سمجھا جاتا ہے، جبکہ مزاحمت کے مکتب میں شہادت کو حیاتِ جاوداں کا درجہ حاصل ہے۔ مزاحمت کا راستہ کبھی بے قیمت نہیں ہوتا؛ یہ خون، صبر اور قربانی کا تقاضا کرتا ہے، اور جو اس قیمت کو حماقت قرار دے، وہ دراصل اپنی فکری کمزوری کو آشکار کرتا ہے۔

مولانا نقوی نے کہا کہ “تہہ خانہ” جیسے طعنہ آمیز الفاظ جدید جنگی شعور سے مکمل ناآشنائی کا ثبوت ہیں، کیونکہ آج کی جنگیں نعروں، جلسوں یا جذباتی ویڈیوز سے نہیں بلکہ محفوظ مراکزِ قیادت، منظم نظامِ رابطہ اور طویل المدت حکمتِ عملی سے لڑی جاتی ہیں۔

آخر میں انہوں نے کہا کہ اصل سوال یہ نہیں کہ رہبر کہاں تشریف رکھتے ہیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کون دشمن کے بیانیے میں بول رہا ہے اور کون اپنی قوم کے شعور اور وقار کی حفاظت کر رہا ہے۔ جو لوگ دشمن کے بیانیے کو دہراتے ہیں، وہ چاہے کتنا ہی شور کیوں نہ مچائیں، تاریخ انہیں وقعت کے ساتھ یاد نہیں رکھتی۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha